گدگ 15 فروری ( ایس او نیوز ) ریاست کرناٹک کے اُڈپی سے شروع ہونے والے حجاب معاملے کو لے کر جہاں ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، وہیں کرناٹک کے گدگ میں بھی حجاب کی حمایت سمیت گدگ میں حال ہی میں پیش آئی مختلف وارداتوں پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مسلم اور دلت تنظیموں کی جانب سے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
شہر میں مسلم تنظیموں اور دلت ایس سی ایس ٹی تنظیموں کی جانب سے نکالی گئی احتجاجی ریلی تونٹا داریہ مٹھ سے اسٹیشن روڈ ، بینک روڈ ، گاندھی سرکل سے ہوتے ہوئے منسپل میدان پہنچی جہاں پہنچ کرجلوس جلسہ میں تبدیل ہوگیا۔ مظاہرہ کے دوران احتجاجیوں نے ایک طرف نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے نعرے لگائے گئے وہیں جئے بھیم جئے بھیم، انصاف چاہئے، ہم ایک ہیں وغیرہ جیسے نعرے بھی لگائے گئے۔ احتجاجی ریلی کے دوران احتجاجیوں نے اپنے ہاتھوں میں مختلف عنوانوں پر مشتمل تختیاں اپنے ہاتھوں میں اُٹھارکھیں تھیں اوربعض کے ہاتھوں میں بابا صاحب امبیڈکر کی تصویر والے بینرس اور بھیم آرمی کے نیلے رنگ کے جھنڈے بھی تھے۔
احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوۓ باشاصاب ملاسمدرا نے مطالبہ کیا کہ رائچور کی ایک عدالت میں جس جج نے 26 جنوری کو بابا صاحب امبیڈ کر کی تصویر کی توہین کی تھی اُس جج کومعطل کیا جاۓ۔ اسی کے ساتھ انہوں نے نرگند میں معصوم نو جوان کے قاتلوں کو بھی فوری طور پر گرفتار کرنے کی مانگ کی۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے دستور میں تمام کو مساوی حقوق دئے گئے ہیں ۔اسی حقوق کی ما نگ کو لے کر آج ہم یہاں ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوۓ ہیں۔ احتجاج میں ہزاروں خواتین بھی شامل تھیں جن میں کئی باحجاب بھی تھیں۔
باشا صاحب نے اپنے خطاب میں ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا کہ ہماری یادداشت کو قبول کرتے ہوۓ قانون اور نظم ونسق کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ اس موقع پرسولی بھائی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے دستور میں بھید بھاؤ کے بغیر تمام کو یکساں حقوق دئے گئے ہیں اور یہ ایک سیکولر ملک ہے ۔ ریاستی بی جے پی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوۓ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت گاندھی کے اصولوں کی دھجیاں اڑاتے ہوۓ گوڈ سے کے اصولوں سے انتظامیہ چلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام طبقات کے باغ امن کرنا ٹک میں بدامنی پھیلانے کی منظم کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت پاکستان کی ایجنٹ کی طرح کام کرہی ہے۔ وجے پور کے رکن اسمبلی پاٹل یتنال کو نشانے پر لیتے ہوئے اُنہیں پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے ایجنٹ کی طرح بیان بازی کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ حب الوطنی ہمیں کسی سے سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم کیسری (زعفرانی ) شال والوں کے اصولوں پر چلنے والے نہیں بلکہ قومی پرچم ترنگے کے رنگ میں رنگنے والے ہندوستانی ہیں۔
ریاست میں چل رہے حجاب تنازع پر گفتگوکرتے ہوۓ انہوں نے کہا کہ قرآن میں لکھا ہے کہ مسلم خواتین لازمی طور پر حجاب پہنیں ، خواتین کا حجاب زیب تن کرنا لازمی ہے۔ لیکن ہندوؤں کیلئے کیسری شال پہننا ہندوؤں کی کسی بھی کتاب میں لکھا ہوا نہیں ہے ڈپٹی کمشنر کو چاہئے کہ وہ امن وامان کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔
اس موقع پر مفتی عارف دھارواڑ نے کہا کہ ہم ہندوستانی ہیں، ہم یہیں پیدا ہوۓ اور اسی زمین میں دفن بھی ہوں گے، انہوں نے یتنال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو پاکستان جانے کی خواہش ہے تو آپ وہاں چلے جائیں، ہمیں اس مٹی سے پیار ہے ، ہم یہیں رہیں گے۔ سرکاری فرسٹ گریڈ کالج میں بی کام کی طالبہ عافیہ نے کہا کہ ہم ہمارے مذہب پرعمل کر رہے ہیں ۔ حجاب کوئی نئی روایت نہیں ہے، صدیوں سے ہم حجاب پہنتے آئے ہیں، حجاب پہن کر ہی ہم اسکول کا لج جاتے رہے ہیں اوراب بھی حجاب پہن کر ہی جائیں گے۔
احتجاج میں انجمن اسلام کمیٹی، جیا کر نا ٹک، جمعیت علماء ہند، ایس سی ایس ٹی دلت سنگھرش کمیٹی ، جئے بھیم، امبیڈ کر کمیٹی، جماعت اسلامی ہند، جمعیت اہل حدیث، سولیڈاریٹی یوتھ کمیٹی، ہیلپنگ ہینڈ کمیٹی، اے پی آرسی وغیرہ کے ذمہ داران موجود تھے۔